shab tum jo bazm-e-ghair mein aankhen chura gae
شب تم جو بزم غیر میں آنکھیں چرا گئے
کھوئے گئے ہم ایسے کہ اغیار پا گئے
پوچھا کسی پہ مرتے ہو اور دم نکل گیا
ہم جان سے عناں بہ عنان صدا گئے
پھیلی وہ بو جو ہم میں نہاں مثل غنچہ تھی
جھونکے نسیم کے یہ نیا گل کھلا گئے
اے آب اشک آتش عنصر ہے دیکھنا
جی ہی گیا اگر نفس شعلہ زا گئے
مجلس میں اس نے پان دیا اپنے ہاتھ سے
اغیار سبز بخت تھے ہم زہر کھا گئے
اٹھا نہ ضعف سے گل داغ جنوں کا بوجھ
قاروں کی طرح ہم بھی زمیں میں سما گئے
غیروں سے ہو وہ پردہ نشیں کیوں نہ بے حجاب
دم ہائے بے اثر مرے پردہ اٹھا گئے
تھی بد گمانی اب انہیں کیا عشق حور کی
جو آ کے مرتے دم مجھے صورت دکھا گئے
تابندہ و جوان تو بخت رقیب تھے
ہم تیرہ روز کیوں غم ہجراں کو بھا گئے
بیزار زندگانی کا جینا محال تھا
وہ بھی ہماری نعش کو ٹھوکر لگا گئے
واعظ کے ذکر مہر قیامت کو کیا کہوں
عالم شب وصال کے آنکھوں میں چھا گئے
جس وقت اس دیار سے اغیار بوالہوس
بد خوئیوں سے یار کے ہو کر خفا گئے
دنیا ہی سے گیا میں جوں ہی ناز سے کہا
اب بھی گمان بد نہ گئے تیرے یا گئے
اے مومنؔ آپ کب سے ہوئے بندۂ بتاں
بارے ہمارے دین میں حضرت بھی آ گئے

Momin Khan Momin
مومن خاں مومن
A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.
View Full Profile →