Jyon Nakhwat-e-Gul Jumbish Hai Ji Ka Nikal Jaana

جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا

اے باد صبا میری کروٹ تو بدل جانا

پالغز محبت سے مشکل ہے سنبھل جانا

اس رخ کی صفائی پر اس دل کا پھسل جانا

سینہ میں جو دل تڑپا دھر ہی تو دیا دیکھا

پھر بھول گیا کیسا میں ہاتھ کا پھل جانا

اتنا تو نہ گھبراؤ راحت یہیں فرماؤ

گھر میں مرے رہ جاؤ آج اور بھی کل جانا

اے دل وہ جو یاں آیا کیا کیا ہمیں ترسایا

تو نے کہیں سکھلایا قابو سے نکل جانا

کیا ایسے سے دعویٰ ہو محشر میں کہ میں نے تو

نظارۂ قاتل کو احسان اجل جانا

ہے ظلم کرم جتنا تھا فرق پڑا کتنا

مشکل ہے مزاج اتنا اک بار بدل جانا

حوروں کی ثنا خوانی واعظ یوں ہی کب مانی

لے آ کہ ہے نادانی باتوں میں بہل جانا

عشق ان کی بلا جانے عاشق ہوں تو پہچانے

لو مجھ کو اطبا نے سودے کا خلل جانا

کیا باتیں بناتا ہے وہ جان جلاتا ہے

پانی میں دکھاتا ہے کافور کا جل جانا

مطلب ہے کہ وصلت میں ہے بوالہوس آفت میں

اس گرمی صحبت میں اے دل نہ پگھل جانا

دم لینے کی طاقت ہے بیمار محبت ہے

اتنا بھی غنیمت ہے مومنؔ کا سنبھل جانا

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

View Full Profile →

More by Momin Khan Momin

Ghazal

مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلے

اپنی منزل کو پہنچ جاؤں قضا سے پہلے

Maar hi daal mujhe chashm-e-ada se pehle

Ghazal

لگے خدنگ جب اس نالۂ سحر کا سا

فلک کا حال نہ ہو کیا مرے جگر کا سا

Lage khadang jab is naala-e-sehar ka sa

Ghazal

ہوئی تاثیر آہ و زاری کی

رہ گئی بات بے قراری کی

Hui taaseer-e-aah-o-zaari ki

Ghazal

ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا

طوفان باد ہے مجھے جھونکا نسیم کا

Hum rang-e-laaghari se hun gul ki shameem ka

Ghazal

تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں

ہم نہیں چاہتے کمی اپنی شب دراز میں

Ta na pare khalal kahin aap ke khwaab-e-naaz mein

Ghazal

سودا تھا بلائے جوش پر رات

بستر پہ بچھائے نیشتر رات

Sauda tha balaae josh par raat

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…