Kya Moafiq Ho Dawa Ishq Ke Beemaar Ke Saath

کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھ

جی ہی جاتے نظر آئے ہیں اس آزار کے ساتھ

رات مجلس میں تری ہم بھی کھڑے تھے چپکے

جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ

مر گئے پر بھی کھلی رہ گئیں آنکھیں اپنی

کون اس طرح موا حسرت دیدار کے ساتھ

شوق کا کام کھنچا دور کہ اب مہر مثال

چشم مشتاق لگی جائے ہے طومار کے ساتھ

راہ اس شوخ کی عاشق سے نہیں رک سکتی

جان جاتی ہے چلی خوبی رفتار کے ساتھ

وے دن اب سالتے ہیں راتوں کو برسوں گزرے

جن دنوں دیر رہا کرتے تھے ہم یار کے ساتھ

ذکر گل کیا ہے صبا اب کہ خزاں میں ہم نے

دل کو ناچار لگایا ہے خس و خار کے ساتھ

کس کو ہر دم ہے لہو رونے کا ہجراں میں دماغ

دل کو اک ربط سا ہے دیدۂ خوں بار کے ساتھ

میری اس شوخ سے صحبت ہے بعینہ ویسی

جیسے بن جائے کسو سادے کو عیار کے ساتھ

دیکھیے کس کو شہادت سے سرافراز کریں

لاگ تو سب کو ہے اس شوخ کی تلوار کے ساتھ

بیکلی اس کی نہ ظاہر تھی جو تو اے بلبل

دم کش میرؔ ہوئی اس لب و گفتار کے ساتھ

Mir — Poet

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا

آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا

Shab dard-o-gham se arsa mere ji pe tang tha

Ghazal

چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت

مایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبت

Chhutta hi nahin ho jise aazaar-e-mohabbat

Ghazal

جفائیں دیکھ لیاں بے وفائیاں دیکھیں

بھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں

Jafaaen dekh liyaan be-wafaaiyaan dekheen

Ghazal

آگے جمال یار کے معذور ہو گیا

گل اک چمن میں دیدۂ بے نور ہو گیا

Aage jamaal-e-yaar ke mazoor ho gaya

Ghazal

دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا

وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا

Dekhe ga jo tujh-ru ko so hairaan rahe ga

Ghazal

ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہ

وہ نمک چھڑکے ہے مزہ ہے یہ

Hum hain majrooh maajra hai yeh

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…