Hai kahan ka irada tumhara sanam, kis ke dil ko adaaon se behlaoge
ہے کہاں کا ارادہ تمہارا صنم کس کے دل کو اداؤں سے بہلاؤ گے
سچ بتاؤ کہ اس چاندنی رات میں کس سے وعدہ کیا ہے کہاں جاؤ گے
دیکھو اچھا نہیں یہ تمہارا چلن یہ جوانی کے دن اور یہ شوخیاں
یوں نہ آیا کرو بال کھولے ہوئے ورنہ دنیا میں بدنام ہو جاؤ گے
آج جاؤ نہ بے چین کر کے مجھے جان جاں دل دکھانا بری بات ہے
ہم تڑپتے رہیں گے یہاں رات بھر تم تو آرام کی نیند سو جاؤ گے
پاس آؤ تو تم کو لگائیں گلے مسکراتے ہو کیوں دور سے دیکھ کر
یوں ہی گزرے اگر یہ جوانی کے دن ہم بھی پچھتائیں گے تم بھی پچھتاؤ گے
بے وفا بے مروت ہے ان کی نظر یہ بدل جائیں گے زندگی لوٹ کر
حسن والوں سے دل کو لگایا اگر اے فناؔ دیکھو بے موت مر جاؤ گے

FANA BULANDSHAHRI
فنا بلند شہری
Beloved Sufi poet of Urdu, best known for the immortal couplet "Mere Rashk-e-Qamar" — verses of love and devotion that still move listeners across generations.
View Full Profile →More by FANA BULANDSHAHRI
← Previous Ghazal
Aankh uthi mohabbat ne angrai li, dil ka sauda hua chandni raat mein
Next Ghazal →
Aap baithe hain baalin pe meri, maut ka zor chalta nahi hai