Aap baithe hain baalin pe meri, maut ka zor chalta nahi hai
آپ بیٹھے ہیں بالیں پہ میری موت کا زور چلتا نہیں ہے
موت مجھ کو گوارا ہے لیکن کیا کروں دم نکلتا نہیں ہے
یہ ادا یہ نزاکت بھرا سن میرا دل تم پہ قربان لیکن
کیا سنبھالو گے تم میرے دل کو جب یہ آنچل سنبھلتا نہیں ہے
میرے نالوں کی سن کر زبانیں ہو گئی موم کتنی چٹانیں
میں نے پگھلا دیا پتھروں کو اک تیرا دل پگھلتا نہیں ہے
شیخ جی کی نصیحت بھی اچھی بات واعظ کی بھی خوب لیکن
جب بھی چھاتی ہیں کالی گھٹائیں بن پئے کام چلتا نہیں ہے
دیکھ لے میری میت کا منظر لوگ کاندھا بدلتے چلے ہیں
ایک تیری بھی ڈولی چلی ہے کوئی کاندھا بدلتا نہیں ہے
میکدے کے سبھی پینے والے لڑکھڑا کر سنبھلتے ہیں لیکن
تیری نظروں کا جو جام پی لے عمر بھر وہ سنبھلتا نہیں ہے

FANA BULANDSHAHRI
فنا بلند شہری
Beloved Sufi poet of Urdu, best known for the immortal couplet "Mere Rashk-e-Qamar" — verses of love and devotion that still move listeners across generations.
View Full Profile →More by FANA BULANDSHAHRI
← Previous Ghazal
Hai kahan ka irada tumhara sanam, kis ke dil ko adaaon se behlaoge
Next Ghazal →
Mere rashk-e-qamar tu ne pahli nazar jab nazar se milai maza aa gaya