dida-e-hairan ne tamasha kiya
دیدۂ حیراں نے تماشا کیا
دیر تلک وہ مجھے دیکھا کیا
ضبط فغاں گو کہ اثر تھا کیا
حوصلہ کیا کیا نہ کیا کیا کیا
آنکھ نہ لگنے سے شب احباب نے
آنکھ کے لگ جانے کا چرچا کیا
مر گئے اس کے لب جاں بخش پر
ہم نے علاج آپ ہی اپنا کیا
بجھ گئی اک آہ میں شمع حیات
مجھ کو دم سرد نے ٹھنڈا کیا
غیر عیادت سے برا مانتے
قتل کیا آن کے اچھا کیا
ان سے پری وش کو نہ دیکھے کوئی
مجھ کو مری شرم نے رسوا کیا
زندگیٔ ہجر بھی اک موت تھی
مرگ نے کیا کار مسیحا کیا
پان میں یہ رنگ کہاں آپ نے
آپ مرے خون کا دعویٰ کیا
جور کا شکوہ نہ کروں ظلم ہے
راز مرا صبر نے افشا کیا
کچھ بھی بن آتی نہیں کیا کیجیے
اس کے بگڑنے نے کچھ ایسا کیا
جائے تھی تیری مرے دل میں سو ہے
غیر سے کیوں شکوۂ بے جا کیا
رحم فلک اور مرے حال پر
تو نے کرم اے ستم آرا کیا
سچ ہی سہی آپ کا پیماں ولے
مرگ نے کب وعدۂ فردا کیا
دعویٔ تکلیف سے جلاد نے
روز جزا قتل پھر اپنا کیا
مرگ نے ہجراں میں چھپایا ہے منہ
لو منہ اسی پردہ نشیں کا کیا
دشمن مومنؔ ہی رہے بت سدا
مجھ سے مرے نام نے یہ کیا کیا

Momin Khan Momin
مومن خاں مومن
A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.
View Full Profile →More by Momin Khan Momin
← Previous Ghazal
is wusat-e-kalam se ji tang aa gaya
Next Ghazal →
aag ashk-e-garm ko lage ji kya hi jal gaya