dekh lo shauq-e-na-tamam mera
دیکھ لو شوق نا تمام مرا
غیر لے جائے ہے پیام مرا
بے اثر ہے فغان خون آلود
کیوں نہ ہوئے خراب کام مرا
آتشیں خو سے آرزوئے وصال
پک گیا اب خیال خام مرا
دیکھنا کثرت بلا نوشی
کاسۂ آسماں ہے جام مرا
رتبہ افتادگی کا دیکھو ہے
عرش کے بھی پرے مقام مرا
کس صنم کو چھڑا دیا واعظ
لے خدا تجھ سے انتقام مرا
ہو کے یوسف جو دل چراتے ہو
کون ہو جائے گا غلام مرا
اس لب لعل کی شکایت ہے
کیونکہ رنگیں نہ ہو کلام مرا
تو نے رسوا کیا مجھے اب تک
کوئی بھی جانتا تھا نام مرا
زانوئے بت پہ جان دی دیکھا
مومنؔ انجام و اختتام مرا
بندگی کام آ رہی آخر
میں نہ کہتا تھا کیوں سلام مرا

Momin Khan Momin
مومن خاں مومن
A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.
View Full Profile →More by Momin Khan Momin
← Previous Ghazal
ejaz-e-jaan-dahi hai hamare kalam ko
Next Ghazal →
is wusat-e-kalam se ji tang aa gaya