Ghazal1 min read

Band-e-Qaba Ko Khooban Jis Waqt Wa Karenge

بند قبا کو خوباں جس وقت وا کریں گے

خمیازہ کش جو ہوں گے ملنے کے کیا کریں گے

رونا یہی ہے مجھ کو تیری جفا سے ہر دم

یہ دل دماغ دونوں کب تک وفا کریں گے

ہے دین سر کا دینا گردن پہ اپنی خوباں

جیتے ہیں تو تمہارا یہ قرض ادا کریں گے

درویش ہیں ہم آخر دو اک نگہ کی رخصت

گوشے میں بیٹھے پیارے تم کو دعا کریں گے

آخر تو روزے آئے دو چار روز ہم بھی

ترسا بچوں میں جا کر دارو پیا کریں گے

کچھ تو کہے گا ہم کو خاموش دیکھ کر وہ

اس بات کے لیے اب چپ ہی رہا کریں گے

عالم مرے ہے تجھ پر آئی اگر قیامت

تیری گلی کے ہر سو محشر ہوا کریں گے

دامان دشت سوکھا ابروں کی بے تہی سے

جنگل میں رونے کو اب ہم بھی چلا کریں گے

لائی تری گلی تک آوارگی ہماری

ذلت کی اپنی اب ہم عزت کیا کریں گے

احوال میرؔ کیوں کر آخر ہو ایک شب میں

اک عمر ہم یہ قصہ تم سے کہا کریں گے

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

Ghazal

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

Ghazal

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

Ghazal

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

Ghazal

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

Ghazal

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…

Tip: switch to dark mode using the icon in the header