فراز

فراز

1931 — 2008· اسلام آباد, پاکستان

اپنے عہد کے سب سے مقبول اردو شاعر — غزل کے ایسے استاد جن کی محبت اور بغاوت کی آواز آج بھی گونجتی ہے۔

تخلص: فراز
اصل نام: سید احمد شاہ
پیدائش: 1931
وفات: 2008
علاقہ: اسلام آباد, پاکستان

اصل نام سید احمد شاہ تھا، مگر دنیا نے اُنہیں احمد فرازؔ کے نام سے پہچانا۔ یہ تخلص اُنہوں نے کم عمری ہی میں اختیار کیا اور عمر بھر نبھایا۔ آبائی تعلق کوہاٹ سے تھا، پیدائش نوشہرہ میں ہوئی، اور تعلیم پشاور میں پائی، جہاں سے اردو اور فارسی، دونوں میں ایم اے کیا۔ عملی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان سے ہوا اور بعد میں کالج میں تدریس بھی کی — مگر جس چیز نے اُن کی پہچان بنائی، وہ شاعری تھی، جو زمانۂ طالب علمی ہی میں شروع ہو چکی تھی۔ محبت اور بغاوت کی آواز فرازؔ ایک ایسے غزل گو کی حیثیت سے سامنے آئے جن کا اپنا ایک منفرد رنگ تھا۔ محبت اور رومان کے پرانے موضوعات کو برتنے کے ساتھ ساتھ اُنہوں نے اپنے عہد کو بھی، اُس کی ساری مایوسی اور دل شکستگی سمیت، اپنے کلام میں اتارا، اور اردو کی بہترین مزاحمتی شاعری میں شمار ہونے والے اشعار کہے۔ اِس جرأت کی قیمت بھی چکانی پڑی۔ فوجی آمریت سے کھلی نفرت پر اُنہیں گرفتار کیا گیا، اور رہائی کے بعد اُنہوں نے اپنی آواز دبانے کے بجائے یورپ اور کینیڈا میں کئی برس کی خودساختہ جلاوطنی کو ترجیح دی۔ یہ اصول آخر تک اُن کے ساتھ رہے: زندگی کے آخری حصے میں اُنہوں نے ملک کے نظامِ حکومت پر احتجاج کرتے ہوئے ایک بڑا قومی اعزاز واپس کر دیا۔ ایک لازوال ورثہ احمد فرازؔ کثیر التصانیف شاعر تھے، اور اپنے پیچھے مجموعوں کی ایک لمبی فہرست چھوڑ گئے — جن میں تنہا تنہا، دردِ آشوب، جاناں جاناں، شب خون اور میرے خواب ریزہ ریزہ شامل ہیں — جو بعد میں اُن کے کلیات شہرِ سخن آراستہ ہے میں یکجا ہوئے۔ مگر جو چیز زندہ رہتی ہے وہ کتابوں کی تعداد نہیں۔ وہ یہ ہے کہ ایک عام قاری، محبت میں ہو، دکھ میں ہو یا بغاوت میں، آج بھی فرازؔ کا کوئی مصرع ڈھونڈتا ہے اور اُسے پہلے سے اپنا منتظر پاتا ہے۔