عمر گزرے گی امتحان میں کیا

عمر گزرے گی امتحان میں کیا

داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا

میری ہر بات بے اثر ہی رہی

نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا

مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں

یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا

اپنی محرومیاں چھپاتے ہیں

ہم غریبوں کی آن بان میں کیا

خود کو جانا جدا زمانے سے

آ گیا تھا مرے گمان میں کیا

شام ہی سے دکان دید ہے بند

نہیں نقصان تک دکان میں کیا

اے مرے صبح و شام دل کی شفق

تو نہاتی ہے اب بھی بان میں کیا

بولتے کیوں نہیں مرے حق میں

آبلے پڑ گئے زبان میں کیا

خامشی کہہ رہی ہے کان میں کیا

آ رہا ہے مرے گمان میں کیا

دل کہ آتے ہیں جس کو دھیان بہت

خود بھی آتا ہے اپنے دھیان میں کیا

وہ ملے تو یہ پوچھنا ہے مجھے

اب بھی ہوں میں تری امان میں کیا

یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو

کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا

ہے نسیم بہار گرد آلود

خاک اڑتی ہے اس مکان میں کیا

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا

ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

JAUN ELIYA

JAUN ELIYA

جون ایلیا

1931–2002
Modern

One of the most prominent modern Urdu poets, popular among the masses for his unconventional ways.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از JAUN ELIYA

Ghazal

حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی

شوق میں کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی گئی

haalat-e-haal ke sabab haalat-e-haal hi gai

Ghazal

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم

naya ek rishta paida kyun karen hum

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…