غزل· 1 منٹ کا مطالعہ
رہتا ہے ہڈیوں سے مری جو ہما لگا
دیکھا ہمیں جہاں وہ تہاں آگ ہو گیا
بھڑکا رکھا ہے لوگوں نے اس کو لگا لگا
بوسہ لبوں کا مانگتے ہی منہ بگڑ گیا
کیا اتنی میری بات کا تم کو برا لگا
کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر
One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.
← مکمل پروفائل دیکھیںمزید از میر تقی میر
Comments
Log in to leave a comment.
Loading comments…