نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا

نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا

یاد دہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا

لطف اگر یہ ہے بتاں صندل پیشانی کا

حسن کیا صبح کے پھر چہرۂ نورانی کا

کفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لیے

حسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا

درہمی حال کی ہے سارے مرے دیواں میں

سیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا

جان گھبراتی ہے اندوہ سے تن میں کیا کیا

تنگ احوال ہے اس یوسف زندانی کا

کھیل لڑکوں کا سمجھتے تھے محبت کے تئیں

ہے بڑا حیف ہمیں اپنی بھی نادانی کا

وہ بھی جانے کہ لہو رو کے لکھا ہے مکتوب

ہم نے سر نامہ کیا کاغذ افشانی کا

اس کا منہ دیکھ رہا ہوں سو وہی دیکھوں ہوں

نقش کا سا ہے سماں میری بھی حیرانی کا

بت پرستی کو تو اسلام نہیں کہتے ہیں

معتقد کون ہے میرؔ ایسی مسلمانی کا

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

عالم میں کوئی دل کا طلب گار نہ پایا

اس جنس کا یاں ہم نے خریدار نہ پایا

Aalam mein koi dil ka talab gar na paya

غزل

کیا کروں شرح خستہ جانی کی

میں نے مر مر کے زندگانی کی

Kya karoon sharh khasta jani ki

غزل

گرچہ کب دیکھتے ہو پر دیکھو

آرزو ہے کہ تم ادھر دیکھو

Garcha kab dekhte ho par dekho

غزل

عام حکم شراب کرتا ہوں

محتسب کو کباب کرتا ہوں

Aam hukm-e-sharab karta hoon

غزل

آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے

کرنا سلوک خوب ہے اہل نیاز سے

Aao kabhoo to paas hamare bhi naaz se

غزل

اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگا

دشمن کے بھی دشمن پر ایسا نہ ہوا ہوگا

Ae dost koi mujh sa ruswa na hua hoga

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…