غزل1 منٹ کا مطالعہ

نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کا

نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کا

ننگ ہے نام رہائی تری صیادی کا

داد دے ورنہ ابھی جان پہ کھیلوں ہوں میں

دل جلانا نہیں دیکھا کسی فریادی کا

تو نے تلوار رکھی سر رکھا میں بندہ ہوں

اپنی تسلیم کا بھی اور تری جلادی کا

شہر کی سی رہی رونق اسی کے جیتے جی

مر گیا قیس جو تھا خانہ خدا وادی کا

شیخ کیا صورتیں رہتی تھیں بھلا جب تھا دیر

رو بہ ویرانی ہو اس کعبے کی آبادی کا

ریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہے

معتقد کون نہیں میرؔ کی استادی کا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

تیغ ستم سے اس کی مرا سر جدا ہوا

شکر خدا کہ حق محبت ادا ہوا

Tegh-e-sitam se us ki mera sar juda hua

غزل

مت ہو مغرور اے کہ تجھ میں زور ہے

یاں سلیماں کے مقابل مور ہے

Mat ho maghroor ae ke tujh mein zor hai

غزل

یہ رہ عشق ہے اس راہ پہ گر جائے گا تو

ایک دیوار کھڑی ہوگی جدھر جائے گا تو

Yeh rah-e-ishq hai is rah pe gir jaye ga tu

غزل

مجھ سوز بعد مرگ سے آگاہ کون ہے

شمع مزار میر بجز آہ کون ہے

Mujh soz-e-baad-e-marg se aagah kaun hai

غزل

کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گزاریں

فریاد کریں کس سے کہاں جا کے پکاریں

Kar naala kashi kab tain auqaat guzaarein

غزل

بے کسانہ جی گرفتاری سے شیون میں رہا

اک دل غم خوار رکھتے تھے سو گلشن میں رہا

Be-kasana jee giriftari se shaiwan mein raha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…