غزل1 منٹ کا مطالعہ

موسم گل آیا ہے یارو کچھ میری تدبیر کرو

موسم گل آیا ہے یارو کچھ میری تدبیر کرو

یعنی سایۂ سر و گل میں اب مجھ کو زنجیر کرو

پیش سعایت کیا جائے ہے حق ہے میری طرف سو ہے

میں تو چپ بیٹھا ہوں یکسو گر کوئی تقریر کرو

کان لگا رہتا ہے غیر اس شوخ کماں ابرو کے بہت

اس تو گناہ عظیم پہ یارو ناک میں اس کی تیر کرو

پھیر دئیے ہیں دل لوگوں کے مالک نے کچھ میری طرف

تم بھی ٹک اے آہ و نالہ قلبوں میں تاثیر کرو

آگے ہی آزردہ ہیں ہم دل ہیں شکستہ ہمارے سب

حرف رنجش بیچ میں لا کر اور نہ اب دلگیر کرو

شعر کیے موزوں تو ایسے جن سے خوش ہیں صاحب دل

روویں کڑھیں جو یاد کریں اب ایسا تم کچھ میرؔ کرو

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…