غزل1 منٹ کا مطالعہ

کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئے

کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئے

چپکے باتیں اٹھائے گئے سر گاڑے وہ ہیں آئے گئے

اٹھے نقاب جہاں سے یا رب جس سے تکلف بیچ میں ہے

جب نکلے اس راہ سے ہو کر منہ تم ہم سے چھپائے گئے

کب کب تم نے سچ نہیں مانیں جھوٹی باتیں غیروں کی

تم ہم کو یوں ہی جلائے گئے وے تم کو وہ ہیں لگائے گئے

صبح وہ آفت اٹھ بیٹھا تھا تم نے نہ دیکھا صد افسوس

کیا کیا فتنے سر جوڑے پلکوں کے سائے سائے گئے

اللہ رے یہ دیدہ درائی ہوں نہ مکدر کیونکے ہم

آنکھیں ہم سے ملائے گئے پھر خاک میں ہم کو ملائے گئے

آگ میں غم کی ہو کے گدازاں جسم ہوا سب پانی سا

یعنی بن ان شعلہ رخوں کے خوب ہی ہم بھی تائے گئے

ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بھی حد ایک آخر ہوتی ہے

کشتے اس کی تیغ ستم کے گور تئیں کب لائے گئے

خضر جو مل جاتا ہے گاہے آپ کو بھولا خوب نہیں

کھوئے گئے اس راہ کے ورنہ کاہے کو پھر پائے گئے

مرنے سے کیا میرؔ جی صاحب ہم کو ہوش تھے کیا کریے

جی سے ہاتھ اٹھائے گئے پر اس سے دل نہ اٹھائے گئے

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

تیغ ستم سے اس کی مرا سر جدا ہوا

شکر خدا کہ حق محبت ادا ہوا

Tegh-e-sitam se us ki mera sar juda hua

غزل

مت ہو مغرور اے کہ تجھ میں زور ہے

یاں سلیماں کے مقابل مور ہے

Mat ho maghroor ae ke tujh mein zor hai

غزل

یہ رہ عشق ہے اس راہ پہ گر جائے گا تو

ایک دیوار کھڑی ہوگی جدھر جائے گا تو

Yeh rah-e-ishq hai is rah pe gir jaye ga tu

غزل

مجھ سوز بعد مرگ سے آگاہ کون ہے

شمع مزار میر بجز آہ کون ہے

Mujh soz-e-baad-e-marg se aagah kaun hai

غزل

کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گزاریں

فریاد کریں کس سے کہاں جا کے پکاریں

Kar naala kashi kab tain auqaat guzaarein

غزل

بے کسانہ جی گرفتاری سے شیون میں رہا

اک دل غم خوار رکھتے تھے سو گلشن میں رہا

Be-kasana jee giriftari se shaiwan mein raha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…