غزل1 منٹ کا مطالعہ

خوش قداں جب سوار ہوتے ہیں

خوش قداں جب سوار ہوتے ہیں

سرو و قمری شکار ہوتے ہیں

تیرے بالوں کے وصف میں میرے

شعر سب پیچ دار ہوتے ہیں

آؤ یاد بتاں پہ بھول نہ جاؤ

یہ تغافل شعار ہوتے ہیں

دیکھ لیویں گے غیر کو تجھ پاس

صحبتوں میں بھی یار ہوتے ہیں

صدقے ہو لیویں ایک دم تیرے

پھر تو تجھ پر نثار ہوتے ہیں

تو کرے ہے قرار ملنے کا

ہم ابھی بے قرار ہوتے ہیں

ہفت اقلیم ہر گلی ہے کہیں

دلی سے بھی دیار ہوتے ہیں

رفتہ رفتہ یہ طفل خوش ظاہر

فتنۂ روزگار ہوتے ہیں

اس کے نزدیک کچھ نہیں عزت

میرؔ جی یوں ہی خوار ہوتے ہیں

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…