غزل1 منٹ کا مطالعہ

کل میرؔ نے کیا کیا کی مے کے لیے بیتابی

کل میرؔ نے کیا کیا کی مے کے لیے بیتابی

آخر کو گرو رکھا سجادۂ محرابی

جاگا ہے کہیں وہ بھی شب مرتکب مے ہو

یہ بات سجھاتی ہے ان آنکھوں کی بے خوابی

کیا شہر میں گنجائش مجھ بے سر و پا کو ہو

اب بڑھ گئے ہیں میرے اسباب کم اسبابی

دن رات مری چھاتی جلتی ہے محبت میں

کیا اور نہ تھی جاگا یہ آگ جو یاں دابی

سو ملک پھرا لیکن پائی نہ وفا اک جا

جی کھا گئی ہے میرا اس جنس کی نایابی

خوں بستہ نہ کیوں پلکیں ہر لحظہ رہیں میری

جاتے نہیں آنکھوں سے لب یار کے عنابی

جنگل ہی ہرے تنہا رونے سے نہیں میرے

کوہوں کی کمر تک بھی جا پہنچی ہے سیرابی

تھے ماہ وشاں کل جو ان کوٹھوں پہ جلوے میں

ہے خاک سے آج ان کی ہر صحن میں مہتابی

کل میرؔ جو یاں آیا طور اس کا بہت بھایا

وہ خشک لبی تس پر جامہ گلے میں آبی

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

اردو غزل کے سب سے بڑے استادوں میں سے ایک — دردِ دل کے شاعر، جن کی نرم اور غم گین آواز نے زبان کو نیا روپ دیا۔

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…

ٹِپ: ہیڈر میں موجود آئیکن سے ڈارک موڈ آن کریں