غزل1 منٹ کا مطالعہ

کب سے نظر لگی تھی دروازۂ حرم سے

کب سے نظر لگی تھی دروازۂ حرم سے

پردہ اٹھا تو لڑیاں آنکھیں ہماری ہم سے

صورت گر اجل کا کیا ہاتھ تھا کہے تو

کھینچی وہ تیغ ابرو فولاد کے قلم سے

سوزش گئی نہ دل کی رونے سے روز و شب کے

جلتا ہوں اور دریا بہتے ہیں چشم نم سے

طاعت کا وقت گزرا مستی میں آب رز کی

اب چشم داشت اس کے یاں ہے فقط کرم سے

کڑھیے نہ روئیے تو اوقات کیونکے گزرے

رہتا ہے مشغلہ سا بارے غم و الم سے

مشہور ہے سماجت میری کہ تیغ برسی

پر میں نہ سر اٹھایا ہرگز ترے قدم سے

بات احتیاط سے کر ضائع نہ کر نفس کو

بالیدگی دل ہے مانند شیشہ دم سے

کیا کیا تعب اٹھائے کیا کیا عذاب دیکھے

تب دل ہوا ہے اتنا خوگر ترے ستم سے

ہستی میں ہم نے آ کر آسودگی نہ دیکھی

کھلتیں نہ کاش آنکھیں خواب خوش عدم سے

پامال کر کے ہم کو پچھتاؤ گے بہت تم

کم یاب ہیں جہاں میں سر دینے والے ہم سے

دل دو ہو میرؔ صاحب اس بد معاش کو تم

خاطر تو جمع کر لو ٹک قول سے قسم سے

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

اردو غزل کے سب سے بڑے استادوں میں سے ایک — دردِ دل کے شاعر، جن کی نرم اور غم گین آواز نے زبان کو نیا روپ دیا۔

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…

ٹِپ: ہیڈر میں موجود آئیکن سے ڈارک موڈ آن کریں