ہستی اپنی حباب کی سی ہے

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

یہ نمائش سراب کی سی ہے

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

چشم دل کھول اس بھی عالم پر

یاں کی اوقات خواب کی سی ہے

بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں

حالت اب اضطراب کی سی ہے

نقطۂ خال سے ترا ابرو

بیت اک انتخاب کی سی ہے

میں جو بولا کہا کہ یہ آواز

اسی خانہ خراب کی سی ہے

آتش غم میں دل بھنا شاید

دیر سے بو کباب کی سی ہے

دیکھیے ابر کی طرح اب کے

میری چشم پر آب کی سی ہے

میرؔ ان نیم باز آنکھوں میں

ساری مستی شراب کی سی ہے

MIR TAQI MIR

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از MIR TAQI MIR

Ghazal

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے

faqirana aae sada kar chale

Ghazal

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

Dekh to dil ki jaan se uthta hai

Ghazal

لٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

Ulti ho gain sab tadbiren kuchh na dawa ne kaam kiya

Ghazal

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

Patta patta buTa buTa haal hamara jaane hai

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…