غزل1 منٹ کا مطالعہ

ہنستے ہو روتے دیکھ کر غم سے

ہنستے ہو روتے دیکھ کر غم سے

چھیڑ رکھی ہے تم نے کیا ہم سے

مند گئی آنکھ ہے اندھیرا پاک

روشنی ہے سو یاں مرے دم سے

تم جو دل خواہ خلق ہو ہم کو

دشمنی ہے تمام عالم سے

درہمی آ گئی مزاجوں میں

آخر ان گیسوان درہم سے

سب نے جانا کہیں یہ عاشق ہے

بہہ گئے اشک دیدۂ نم سے

مفت یوں ہاتھ سے نہ کھو ہم کو

کہیں پیدا بھی ہوتے ہیں ہم سے

اکثر آلات جور اس سے ہوئے

آفتیں آئیں اس کے مقدم سے

دیکھ وے پلکیں برچھیاں چلیاں

تیغ نکلی اس ابروئے خم سے

کوئی بیگانہ گر نہیں موجود

منہ چھپانا یہ کیا ہے پھر ہم سے

وجہ پردے کی پوچھیے بارے

ملیے اس کے کسو جو محرم سے

درپئے خون میرؔ ہی نہ رہو

ہو بھی جاتا ہے جرم آدم سے

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…