غزل· 1 منٹ کا مطالعہ

ہے حال جائے گریہ جان پر آرزو کا

ہے حال جائے گریہ جان پر آرزو کا

روئے نہ ہم کبھو ٹک دامن پکڑ کسو کا

جاتی نہیں اٹھائی اپنے پہ یہ خشونت

اب رہ گیا ہے آنا میرا کبھو کبھو کا

اس آستاں سے کس دن پر شور سر نہ پٹکا

اس کی گلی میں جا کر کس رات میں نہ کوکا

شاید کہ مند گئی ہے قمری کی چشم گریاں

کچھ ٹوٹ سا چلا ہے پانی چمن کی جو کا

اپنے تڑپنے کی تو تدبیر پہلے کر لوں

تب فکر میں کروں گا زخموں کے بھی رفو کا

دانتوں کی نظم اس کے ہنسنے میں جن نے دیکھی

پھر موتیوں کی لڑ پر ان نے کبھو نہ تھوکا

یہ عیش گہ نہیں ہے یاں رنگ اور کچھ ہے

ہر گل ہے اس چمن میں ساغر بھرا لہو کا

بلبل غزل سرائی آگے ہمارے مت کر

سب ہم سے سیکھتے ہیں انداز گفتگو کا

گلیاں بھری پڑی ہیں اے باد زخمیوں سے

مت کھول پیچ ظالم اس زلف مشک بو کا

وے پہلی التفاتیں ساری فریب نکلیں

دینا نہ تھا دل اس کو میں میرؔ آہ چوکا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا

ان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھا

Kya kahiye ki khooban ne ab hum mein hai kya rakha

غزل

مر مر گئے نظر کر اس کے برہنہ تن میں

کپڑے اتارے ان نے سر کھینچے ہم کفن میں

Mar mar gaye nazar kar us ke barhana tan mein

غزل

یار میرا بہت ہے یار فریب

مکر ہے عہد سب قرار فریب

Yaar mera bohat hai yaar fareb

غزل

شوق ہے تو ہے اس کا گھر نزدیک

دوری رہ ہے راہ بر نزدیک

Shauq hai to hai is ka ghar nazdeek

غزل

وہ دیکھنے ہمیں ٹک بیماری میں نہ آیا

سو بار آنکھیں کھولیں بالیں سے سر اٹھایا

Woh dekhne hamein tuk bemari mein na aaya

غزل

یہ چشم آئینہ دار رو تھی کسو کی

نظر اس طرف بھی کبھو تھی کسو کی

Yeh chashm-e-aaina-dar ru thi kaso ki

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…