غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا

غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا

یا روز اٹھ کے سر کو پھرایا تو کیا ہوا

ان نے تو مجھ کو جھوٹے بھی پوچھا نہ ایک بار

میں نے اسے ہزار جتایا تو کیا ہوا

خواہاں نہیں وہ کیوں ہی میں اپنی طرف سے یوں

دل دے کے اس کے ہاتھ بکا تو کیا ہوا

اب سعی کر سپہر کہ میرے موئے گئے

اس کا مزاج مہر پہ آیا تو کیا ہوا

مت رنجہ کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاد

دل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا

میں صید ناتواں بھی تجھے کیا کروں گا یاد

ظالم اک اور تیر لگایا تو کیا ہوا

کیا کیا دعائیں مانگی ہیں خلوت میں شیخ یوں

ظاہر جہاں سے ہاتھ اٹھایا تو کیا ہوا

وہ فکر کر کہ چاک جگر پاوے التیام

ناصح جو تو نے جامہ سلایا تو کیا ہوا

جیتے تو میرؔ ان نے مجھے داغ ہی رکھا

پھر گور پر چراغ جلایا تو کیا ہوا

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

عام حکم شراب کرتا ہوں

محتسب کو کباب کرتا ہوں

Aam hukm-e-sharab karta hoon

غزل

عشق کیا کیا آفتیں لاتا رہا

آخر اب دوری میں جی جاتا رہا

Ishq kya kya aafatein laata raha

غزل

جس جگہ دور جام ہوتا ہے

واں یہ عاجز مدام ہوتا ہے

Jis jagah daur-e-jaam hota hai

غزل

یار نے ہم سے بے ادائی کی

وصل کی رات میں لڑائی کی

Yaar ne ham se be-adai ki

غزل

غالب کہ یہ دل خستہ شب ہجر میں مر جائے

یہ رات نہیں وہ جو کہانی میں گزر جائے

Ghalib ke yeh dil-e-khasta shab-e-hijr mein mar jaye

غزل

شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا

آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا

Shab dard-o-gham se arsa mere ji pe tang tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…