اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

رنج راحت فزا نہیں ہوتا

بے وفا کہنے کی شکایت ہے

تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا

ذکر اغیار سے ہوا معلوم

حرف ناصح برا نہیں ہوتا

کس کو ہے ذوق تلخ کامی لیک

جنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا

تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے

ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

اس نے کیا جانے کیا کیا لے کر

دل کسی کام کا نہیں ہوتا

امتحاں کیجیے مرا جب تک

شوق زور آزما نہیں ہوتا

ایک دشمن کہ چرخ ہے نہ رہے

تجھ سے یہ اے دعا نہیں ہوتا

آہ طول امل ہے روز فزوں

گرچہ اک مدعا نہیں ہوتا

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

حال دل یار کو لکھوں کیوں کر

ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا

رحم کر خصم جان غیر نہ ہو

سب کا دل ایک سا نہیں ہوتا

دامن اس کا جو ہے دراز تو ہو

دست عاشق رسا نہیں ہوتا

چارۂ دل سوائے صبر نہیں

سو تمہارے سوا نہیں ہوتا

کیوں سنے عرض مضطر مومنؔ

صنم آخر خدا نہیں ہوتا

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از Momin Khan Momin

Ghazal

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

پر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم

Thaani thi dil mein ab na milein ge kisi se hum

Ghazal

دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے

فلس ماہی کے گل شمع شبستاں ہوں گے

Dafan jab khaak mein hum sokhta saamaan hoon ge

Ghazal

رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح

اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح

Roya karein ge aap bhi pehroon isi tarah

Ghazal

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو

ہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو

Aankhon se haya tapke hai andaaz to dekho

Ghazal

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

Wo jo hum mein tum mein qaraar tha tumhein yaad ho ke na yaad ho

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…