ADABKHANA
ADABKHANA
شعراءغزلیںاشعارکلیاتلغتمحاورے
ADABKHANA
شعراءغزلیںاشعارکلیاتلغتمحاورے
لاگ ان

اردو ادب سے جڑے رہیں

خوبصورت اشعار، نمایاں شاعروں اور نئے اضافوں کا انتخاب اپنے ای میل پر حاصل کریں۔

ADABKHANA

اردو ادب کی روح کا تحفظ

ادب خانہ اردو شاعری اور ادب کا ایک ڈیجیٹل مرکز ہے — ان لوگوں کے لیے جو الفاظ میں معنی تلاش کرتے ہیں۔ کلاسیکی اساتذہ سے لے کر معاصر آوازوں تک، ہم صدیوں کا اردو کلام دنیا بھر کے قارئین تک پہنچاتے ہیں — اردو رسم الخط اور رومن ترجمے دونوں میں۔ ہمارا مقصد سادہ ہے: یہ یقینی بنانا کہ یہ لازوال ادبی روایت کبھی وقت یا جغرافیے کی نذر نہ ہو۔

دریافت کریں

  • شعراء
  • غزلیں
  • اشعار
  • کلیات
  • لغت
  • محاورے

اکاؤنٹ

  • لاگ ان
  • رجسٹر
  • میرے بک مارکس

معلومات

  • تعارف
  • رابطہ
  • رازداری کی پالیسی

© 2026 Adab Khana. All rights reserved.

لغت پر واپس →

روانی

Ravaani

معنی

Flow; fluency; the smooth and effortless movement of verse or speech.


اس لفظ کے اشعار

میرؔ دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی خاطر بادیہ سے دیر میں جاوے گی کہیں خاک مانند بگولے کے اڑانی اس کی ایک ہے عہد میں اپنے وہ پراگندہ مزاج اپنی آنکھوں میں نہ آیا کوئی ثانی اس کی مینہ تو بوچھار کا دیکھا ہے برستے تم نے اسی انداز سے تھی اشک فشانی اس کی بات کی طرز کو دیکھو تو کوئی جادو تھا پر ملی خاک میں کیا سحر بیانی اس کی کر کے تعویذ رکھیں اس کو بہت بھاتی ہے وہ نظر پاؤں پہ وہ بات دوانی اس کی اس کا وہ عجز تمہارا یہ غرور خوبی منتیں ان نے بہت کیں پہ نہ مانی اس کی کچھ لکھا ہے تجھے ہر برگ پہ اے رشک بہار رقعہ واریں ہیں یہ اوراق خزانی اس کی سرگزشت اپنی کس اندوہ سے شب کہتا تھا سو گئے تم نہ سنی آہ کہانی اس کی مرثیے دل کے کئی کہہ کے دیئے لوگوں کو شہر دلی میں ہے سب پاس نشانی اس کی میان سے نکلی ہی پڑتی تھی تمہاری تلوار کیا عوض چاہ کا تھا خصمی جانی اس کی آبلے کی سی طرح ٹھیس لگی پھوٹ بہے دردمندی میں گئی ساری جوانی اس کی اب گئے اس کے جز افسوس نہیں کچھ حاصل حیف صد حیف کہ کچھ قدر نہ جانی اس کی

Meer darya hai sune sher zabaani us ki Allah Allah re tabiyat ki ravaani us ki

میر تقی میر← مکمل نظم