ADABKHANA
ADABKHANA
شعراءغزلیںاشعارکلیاتلغتمحاورے
ADABKHANA
شعراءغزلیںاشعارکلیاتلغتمحاورے
لاگ ان

اردو ادب سے جڑے رہیں

خوبصورت اشعار، نمایاں شاعروں اور نئے اضافوں کا انتخاب اپنے ای میل پر حاصل کریں۔

ADABKHANA

اردو ادب کی روح کا تحفظ

ادب خانہ اردو شاعری اور ادب کا ایک ڈیجیٹل مرکز ہے — ان لوگوں کے لیے جو الفاظ میں معنی تلاش کرتے ہیں۔ کلاسیکی اساتذہ سے لے کر معاصر آوازوں تک، ہم صدیوں کا اردو کلام دنیا بھر کے قارئین تک پہنچاتے ہیں — اردو رسم الخط اور رومن ترجمے دونوں میں۔ ہمارا مقصد سادہ ہے: یہ یقینی بنانا کہ یہ لازوال ادبی روایت کبھی وقت یا جغرافیے کی نذر نہ ہو۔

دریافت کریں

  • شعراء
  • غزلیں
  • اشعار
  • کلیات
  • لغت
  • محاورے

اکاؤنٹ

  • لاگ ان
  • رجسٹر
  • میرے بک مارکس

معلومات

  • تعارف
  • رابطہ
  • رازداری کی پالیسی

© 2026 Adab Khana. All rights reserved.

لغت پر واپس →

چاہ

Chaah

معنی

Love; affection; desire; liking.


اس لفظ کے اشعار

منہ دکھاتا برسوں وہ خوش رو نہیں چاہ کا یوں کب تلک ناتا رہا

Munh dikhata barson wo khush-roo nahin Chaah ka yoon kab talak naata raha

میر تقی میر← مکمل نظم

شاد و خوش طالع کوئی ہوگا کسو کو چاہ کر میں تو کلفت میں رہا جب سے مجھے الفت ہوئی

Shaad-o-khush-taali koi hoga kiso ko chaah kar Main to kulfat mein raha jab se mujhe ulfat hui

میر تقی میر← مکمل نظم

میان سے نکلی ہی پڑتی تھی تمہاری تلوار کیا عوض چاہ کا تھا خصمی جانی اس کی

Miyaan se nikli hi parti thi tumhaari talwaar Kya iwaz-e-chaah ka tha khusmi-jaani us ki

میر تقی میر← مکمل نظم

تاب کم ظرف کو کہاں تم نے دشمنی کی عدو سے چاہ نہ کی

Taab-e-kam-zarf ko kahan tum ne Dushmani ki adu se chaah na ki

مومن خاں مومن← مکمل نظم

ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس ایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہوں گے

Ek hum hain ke huay aise pasheiman ke bas Ek wo hain ke jinhein chaah ke armaan hoon ge

مومن خاں مومن← مکمل نظم

کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

Kabhi hum mein tum mein bhi chaah thi kabhi hum se tum se bhi raah thi Kabhi hum bhi tum bhi the aashna tumhein yaad ho ke na yaad ho

مومن خاں مومن← مکمل نظم

ظالم مرے گماں سے مجھے منفعل نہ چاہ ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بے وفا کہوں

zālim mire gumāñ se mujhe munfa'il na chaah hai hai ḳhudā-na-karda tujhe bevafā kahūñ

مرزا غالب← مکمل نظم