Roya karein ge aap bhi pehroon isi tarah

رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح

اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح

آتا نہیں ہے وہ تو کسی ڈھب سے داؤ میں

بنتی نہیں ہے ملنے کی اس کے کوئی طرح

تشبیہ کس سے دوں کہ طرح دار کی مرے

سب سے نرالی وضع ہے سب سے نئی طرح

مر چک کہیں کہ تو غم ہجراں سے چھوٹ جائے

کہتے تو ہیں بھلے کی ولیکن بری طرح

نے تاب ہجر میں ہے نہ آرام وصل میں

کم بخت دل کو چین نہیں ہے کسی طرح

لگتی ہیں گالیاں بھی ترے منہ سے کیا بھلی

قربان تیرے پھر مجھے کہہ لے اسی طرح

پامال ہم نہ ہوتے فقط جور چرخ سے

آئی ہماری جان پہ آفت کئی طرح

نے جائے واں بنے ہے نہ بن جائے چین ہے

کیا کیجیے ہمیں تو ہے مشکل سبھی طرح

معشوق اور بھی ہیں بتا دے جہان میں

کرتا ہے کون ظلم کسی پر تری طرح

ہوں جاں بہ لب بتان ستم گر کے ہاتھ سے

کیا سب جہاں میں جیتے ہیں مومنؔ اسی طرح

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

View Full Profile →

More by Momin Khan Momin

Ghazal

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

پر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم

Thaani thi dil mein ab na milein ge kisi se hum

Ghazal

دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے

فلس ماہی کے گل شمع شبستاں ہوں گے

Dafan jab khaak mein hum sokhta saamaan hoon ge

Ghazal

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو

ہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو

Aankhon se haya tapke hai andaaz to dekho

Ghazal

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

رنج راحت فزا نہیں ہوتا

Asar us ko zara nahi hota

Ghazal

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

Wo jo hum mein tum mein qaraar tha tumhein yaad ho ke na yaad ho

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…