haalat-e-haal ke sabab haalat-e-haal hi gai

حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی

شوق میں کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی گئی

تیرا فراق جان جاں عیش تھا کیا مرے لیے

یعنی ترے فراق میں خوب شراب پی گئی

تیرے وصال کے لیے اپنے کمال کے لیے

حالت دل کہ تھی خراب اور خراب کی گئی

اس کی امید ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپ

عمر گزار دیجیے عمر گزار دی گئی

ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک

بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی

بعد بھی تیرے جان جاں دل میں رہا عجب سماں

یاد رہی تری یہاں پھر تری یاد بھی گئی

اس کے بدن کو دی نمود ہم نے سخن میں اور پھر

اس کے بدن کے واسطے ایک قبا بھی سی گئی

مینا بہ مینا مے بہ مے جام بہ جام جم بہ جم

ناف پیالے کی ترے یاد عجب سہی گئی

کہنی ہے مجھ کو ایک بات آپ سے یعنی آپ سے

آپ کے شہر وصل میں لذت ہجر بھی گئی

صحن خیال یار میں کی نہ بسر شب فراق

جب سے وہ چاندنا گیا جب سے وہ چاندنی گئی

From: Book : Goya (Pg. 31)

JAUN ELIYA

JAUN ELIYA

جون ایلیا

1931–2002
Modern

One of the most prominent modern Urdu poets, popular among the masses for his unconventional ways.

View Full Profile →

More by JAUN ELIYA

Ghazal

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم

naya ek rishta paida kyun karen hum

Ghazal

عمر گزرے گی امتحان میں کیا

داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا

umr guzregi imtihan mein kya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…