Gar Ghair Ke Ghar Se Na Dil Aaraam Nikalta
گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا
دم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا
میں وہم سے مرتا ہوں وہاں رعب سے اس کے
قاصد کی زباں سے نہیں پیغام نکلتا
کرتے جو مجھے یاد شب وصل عدو تم
کیا صبح کہ خورشید نہ تا شام نکلتا
جب جانتے تاثیر کہ دشمن بھی وہاں سے
اپنی طرح اے گردش ایام نکلتا
ہر ایک سے اس بزم میں شب پوچھتے تھے نام
تھا لطف جو کوئی مرا ہم نام نکلتا
کیوں کام طلب ہے مرے آزار سے گردوں
ناکام سے دیکھا ہے کہیں کام نکلتا
تھی نوحہ زنی دل کے جنازے پہ ضروری
شاید کہ وہ گھبرا کے سر بام نکلتا
کانٹا سا کھٹکتا ہے کلیجے میں غم ہجر
یہ خار نہیں دل سے گل اندام نکلتا
حوریں نہیں مومنؔ کے نصیبوں میں جو ہوتیں
بت خانے ہی سے کیوں یہ بد انجام نکلتا

Momin Khan Momin
مومن خاں مومن
A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.
View Full Profile →More by Momin Khan Momin
← Previous Ghazal
Jalta Hun Hijar-e-Shaahid-o-Yaad-e-Sharaab Mein
Next Ghazal →
Chal Pare Hat Mujhe Na Dikhla Munh